ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم میں نہ ہو ’تیسرے درجے‘ جیسا سلوک: کمارسوامی

کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم میں نہ ہو ’تیسرے درجے‘ جیسا سلوک: کمارسوامی

Tue, 15 Jan 2019 01:09:12    S.O. News Service

نئی دہلی ،14 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ذرائع کے مطابق کرناٹک میں ایک بار پھر حکومت گرانے کی کوشش چل رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے کچھ لیڈراس کام میں مصروف ہیں۔خبر ہے کہ کانگریس کے چار ممبران اسمبلی کو ممبئی کے ایک رسارٹ میں رکھا گیا ہے۔

وہیں کانگریس کا کہنا ہے کہ سبھی چاروں ممبر اسمبلی ہمارے رابطے میں بنے ہوئے ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشورکا کہنا ہے کہ ہماری حکومت مستحکم ہے، کوئی خطرہ نہیں ہے۔یہ بھی بتایا جارہے کہ یہ کوشش سابق وزیر اعلیٰ ید یورپا کے خیمے سے چل رہی ہے، جبکہ بی جے پی کا اعلی قیادت عام انتخابات سے پہلے اس سے بچنا چاہتا ہے۔ان خبروں کے درمیان کرناٹک کے وزیر اعلی اور جے ڈی ایس لیڈر کمارسوامی کا بیان کانگریس کو پریشان کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کرناٹک میں حکمران اتحاد کے ساتھیوں کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم میں ان کی پارٹی کے ساتھ ’تیسرے درجے کے شہریوں‘ جیسا سلوک نہ کیا جائے اور بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کے لئے دونوں شراکت داروں کو ’ لین دین کی پالیسی ‘اپنانی ہوگی۔اتحاد کے ساتھیوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ہونے والی بات چیت سے پہلے کانگریس میں اندرونی دباؤ ہے کہ وہ جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس ) کے سامنے زیادہ نہ جھکیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ اقتدار مخالف لہر کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا ’کرشمہ‘ختم رہا ہے۔وزیر اعظم کے عہدے کے لئے کانگریس صدر راہل گاندھی کا نام تجویز کرتے ہوئے کمارسوامی نے کہا کہ بی جے پی مخالف پارٹیوں میں حالانکہ گاندھی کے نام کو لے کر ابھی تک رائے نہیں ہے۔کرناٹک میں اپنی حکومت کے سات ماہ پورے ہونے پر جے ڈی ایس لیڈر نے حکومت کے اندر اختلافات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تلخی سے آسانی سے نجات پا لیں گے۔سیٹ تقسیم پر بات چیت ناکام رہنے پر کیا جے ڈی ایس اکیلے لوک سبھا انتخابات لڑے گی، یہ پوچھنے پر وزیر اعلی نے کہاکہ ہماری سمجھ سے ہم دونوں (کانگریس اور جے ڈی ایس ) کو (لوک سبھا انتخابات) کے ساتھ لڑنا چاہئے کیونکہ (کرناٹک میں) حکومت بنانے کی وجہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا اور ملک میں ماحول کو بہتر بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہندوستانی ریاست میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں بہت تبدیلی آئی ہے۔


Share: